Loading...
لاگ ان

کھل جائیں شکیل اُس پر اسرارِ خداوندی
اقبال کے شعروں کو انساں اگر سمجھے

اللہ تو سب کی سنتا ہے ، جرأت ہے شکیل اپنی اپنی
حالی نے زبان سے اُف بھی نہ کی،اقبال شکایت کر بیٹھے
شکیل بدایونی - بدایوں
===
بات جو دنیا کے دل میں تھی وہ تیرے لب پہ تھی
چشمِ شاہین بن کے دیکھی تُو نے حدِ ممکنات

زندگی کے سو پہلو ہیں سو ہر اک پہلو کے رنگ
تُو نے اِک اِک رنگ یوں دنیا پہ ظاہر کر دیا
من موہن تلخ - دہلی
===
فضائے نیم خوابی سے خودی تک لے کے آیا
ہم ایسے بے پروں کو فطرتِ شاہین دے کر
میاں سعید - احمد پورشرقیہ
===


خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
===
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
===
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے
===
ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں
مری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں
===
دل کی بستی عجیب بستی ہے
لوٹنے والے کو ترستی ہے


علامہ محمد اقبال ،ڈاکٹر

قلمی نام

علامہ محمد اقبال ،ڈاکٹر


نام

ڈاکٹر شیخ محمد اقبال



نام والد
شیخ نور محمد

Persian,Urdu Language Poet

سیالکوٹ(پنجاب) , پاکستان


پیدائش
1877-11-09   سیالکوٹ (پنجاب) - پاکستان
وفات
1938-04-21   لاہور (پنجاب) - پاکستان


  • اسرار و رموز ()

  • کلیاتِ اقبال اُردو () لاہور، اقبال اکادمی پاکستان ، بار اول 1990ء ()

  • ارمغانِ حجاز - فارسی ()

  • مثنوی پس چہ باید کرد مع مسافر () (Pas che Bayad Kard) ، ، ()

  • (The Development Of Metaphysics In Persia) لاہور، ()

  پچھلا | 1 | 2 | 3 | 4 |   آخری


Keyboard