Loading...
لاگ ان

پسِ مرگ قبر پر اے ظفر کوئی فاتحہ بھی کہاں پڑھے
وہ جو ٹوٹی قبر کا تھا نشاں اُسے ٹھوکروں سے اُڑا دیا
===
خواب تھی جو زندگی جاد و چشم میں کٹ گئی
ورنہ اپنی عمر ساری درد و غم میں کٹ گئی
===
ظفر آدمی اُس کو نہ جانیئے گا ہو وہ جیسا ہی صاحب فہم و ذکا
جسے عیش میں یادِ خدا نہ رہے جیسے طیش میں خوفِ خدا نہ رہا
===
مِری آنکھ بند تھی جب تلک وہ نظر میں نور جمال تھا
کُھلی آنکھ تو نہ خبر رہی کہ وہ خواب تھا کہ خیال تھا
===
دیا اپنی خودی کو جو ہم نے مٹا وہ جو پردہ سا بیچ میں تھا نہ رہا
رہے پردے میں اب نہ وہ پردہ نشیں کوئی دوسرا اِس کے سوا نہ رہا
===
رات دن تیرا تصور ہے خیال اور نہیں
کہ سوا اس کے محبت کا کمال اور نہیں
===
سمجھنا عشق کو آفت اور اس آفت میں پھنس جانا
غرض دانا بھی ہم کتنے ہیں اور نادان کتنے ہیں
===
محبت چاہیے باہم ہمیں بھی ہو تمہیں بھی ہو
خوشی ہو اس میں یا ہو غم ہمیں بھی ہو تمیں بھی ہو
===
بات کرنی ہمیں مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی
جیسی اب ہے تری محفل کبھی ایسی تو نہ تھی
===
ترا جس دن سے عالم میں نے دیکھا
مجھے بھی دیکھنے عالم لگا ہے
===
لے گیا چھین کے کوئی آج ترا صبر و قرار
بے قراری تجھے اے دل کبھی ایسی تو نہ تھی
===
کیا کہوں ہے کیا بتوں کی آشنائی میں مزا
وہ مزا سب اس میں ہے جو ہے خدائی میں مزا
===
وحشت ہے یا جنوں مجھے پر تیرے عشق میں
پھرتا ہوں یوں جو خاک بسر کچھ نہ کچھ تو ہے
===
دیکھے عذاب سوز محبت میں اس قدر
دل سے ہمارے خوف جہنم نکل گیا
===
وہ سیکھے بے طرح کچھ بیر کرنا
مجھے ڈر ہے الٰہی خیر کرنا
===
میں دل کو جانتا تھا بڑا دوست عشق میں
دیکھا تو ایسا دشمن جاں کوئی بھی نہیں


ظفر ، بہادر شاہ

قلمی نام

ظفر ، بہادر شاہ


نام

محمد سراج الدین ابو ظفر



شاعر

رنگون , سری لنکا


Research and edited by Mian Muhammad Saeed, for citations special thanks to the copyright owners

ماہ و سالِ ظفر
== 1775ء اکتوبر 10 کو محمد سراج الدین ابو ظفر دہلی میں اکبر شاہ ثانی کے ہاں لال بائی کے بطن سے پیدا ہوئے
== 1845ء میں پہلا دیوان مطبع سلطانی سے شائع ہوا
== 1849ء جنوری 11 کو شہزادہ مرزا دارا بخت فوت ہوئے
== 1850ء میں دوسرا دیوان مطبع سلطانی سے شائع ہوا
== 1856ء جولائی 10 کو مرزا فخرو فوت ہوئے
== 1858ء مارچ 9 کو بہادر شاہ ظفر کے خلاف مقدمے کا فیصلہ سنا گیا
== 1858ء اکتوبر 17 کو ملکہ زینت محل شہزادہ جواں بخت ار دوسرے افراد کے ساتھ دلی سے رنگون کے لیے روانہ ہوئے
== 1858ء دسمبر 9 کو رنگون پہنچے
== 1962ء نومبر 3 کو حلق کی بیماری میں مبتلا ہوئے
== 1862ء نومبر 7 بروز جمعہ صبح 5 بجے رنگون میں وفات پائی - انا للہ و انا الیہ راجعون - شام 4 بجے تدفین کر دی گئی

== تلمیذ:- دیوان اول تک شاہ نصیر کے شاگرد رہے جب وہ حیدرآباد دکن چلے گئے تو پھر کچھ دن میر کاظم حسین بیقرار کے شاگرد رہے - جب وہ جان انفنسٹن کے میر منشی مقرر ہوکر دلی کو چھوڑ گئے کچھ عرصہ عزت اللہ عشق کی بھی شاگردی میں رہے اس کے بعد ذوق دہلوی (جب ذوق غلام رسول شوق کے شاگرد تھے) سے مشورۂ سخن کرتے رہے اور پھر یہ سلسلہ ذوق کی وفات تک 47 برس قائم رہا - ذوق دہلوی کی وفات کے بعد مرزا غالب کے شاگرد ہوگئے 1857ء کے غدر نے استادی شاگردی کا سلسلہ ختم کرا دیا

کِتابیات
== انتقادیات حصہ اول ، علامہ نیاز فتح پوری ،حیدرآباد دکن،عبدالحق اکیڈمی ،1944ء ، ص 72
== انتخاب ذوق و ظفر مع مقدمہ ،کیفی دہلوی، شان الحق حقی ،مُرتبین،دہلی ، انجمن ترقی اُردو (ہند) ،1945ء
== احسن الانتخاب ،احسن مارہروی ،علی گڑھ ، ایجوکیشنل بُک ہاؤس ، ت ن ، ص 227
== اُردو شاعری کا تنقیدی جائزہ ، ادریس صدیقی ،کراچی، سرسید بُک کمپنی ، 1971ء ، ص 203- 192
== تذکرۂ قطعہ منتخب ، مولوی عبدالغفور خاں نسّاخ ، انصاراللہ نظر ،مُرتبہ، کراچی، انجمن ترقیٔ اُردو پاکستان ،1974ء ، ص 46
== سُرورِ رفتہ، امیر چند بہار ،پٹنہ، خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری، 1998ء ، ص 82
== بوستان ،محمد عارف جان ، ڈیرہ غازی خاں، محمد عارف جان، 2003ء ، ص 18
== تاریخِ اَدبِ اُردو، رام بابو سکسینہ ،مرزا محمد عسکری ،مترجم، لاہور، سنگ میل پبلی کیشنز ، 2004ء ، ص162
== نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں (غزل) ، بہادر شاہ ظفر ، مرزا غالب سے وصی شاہ تک ، توفیق سردار راجپوت ، لاہور، دُعا پبلی کیشنز ، 2008ء ، ص 31
== بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی (غزل) ، بہادر شاہ ظفر ، مرزا غالب سے وصی شاہ تک ، توفیق سردار راجپوت ، لاہور، دُعا پبلی کیشنز ، 2008ء ، ص 32

کِتابیات (ظفر شناسی)
== بہادر شاہ ظفر ، منشی امیر احمد علوی ،لکھنؤ، نامی پریس ،1935ء ،152 ص
== انتخاب کلامِ ظفر ، شاہد علی خان ،مُرتبہ،لاہور ، آئینۂ ادب بار دوم 1960ء ،167 ص
== بہادر شاہ ظفر، اسلم پرویز ،نئی دہلی، انجمن ترقی اُردو (ہند)
== بہادر شاہ ظفر: شخصیت،فکر اور فن، پروفیسر ڈاکٹر سردار احمد خان ،کراچی، علمی ورثہ. 2001ء ، 315 ص


  • دیوانِ ظفر () ،لاہور،ملک دین محمد اینڈ سنز،فروری 1939ء، 80 ص (شاعری)

  • دیوان سوم ()

  • دیوان دوم ()

  • دیوان اول ()


Keyboard