Loading...
لاگ ان

ترے آشفتہ سے کیا حالِ بیتابی بیاں ہوگا
جبیںِ شوق ہو گی اور تیرا آستاں ہو گا
===
ہوا ہوں تیری پیہم بے رُخی سے اس قدر بے حس
کہ اُلفت کی نظر بھی اب تو پہچانی نہیں جاتی
===
ضبط کی کوشش ہے جانِ ناتواں مشکل میں ہے
کیوں عیاں ہو آنکھ سے وہ غم جو پنہاں دل میں ہے


قلمی نام

وحشت کلکتوی


نام

سید رضا علی



نام والد
حکیم شمشاد علی

نقاد, ادیب, شاعر

ڈھاکہ , بنگلہ دیش


پیدائش
1881-11-18   کلکتہ (مغربی بنگال) - بھارت
وفات
1956-07-20   ڈھاکہ - بنگلہ دیش


Research and edited by Mian Muhammad Saeed, for citations special thanks to the copyright owners

== میٹرک ،1901ء
== استاد اسلامیہ کالج .کلکتہ
== استاد لیڈی ہری بوان گرلز کالج .کلکتہ
== مئی 1950ء کو ڈھاکہ منتقل ہوئے

مشاعرے
== 20 اپریل 1939ء ، کلکتہ کا مشاعرہ ، حشر ڈرامیٹک کلب کے زیرِ اہتمام مشاعرے میں ان شعراء نے شرکت کی ، انور حسین آرزو لکھنؤی ، رضا علی وحشت کلکتوی ، غلام خواجہ قدوائی ، پروفیسر عباس علی بیخود ، سلیمان واصف ، منی لال جواں دہلوی اور الم لکھنوی

کِتابیات
== 1942ء کی منتخب غزلیں ، آغا سرخوش قزلباش ،دہلی، نگارستان ایجنسی ،ت ن ، ص 53
== اُردو اَدب اور بنگالی کلچر ،شانتی رنجن بھٹا چاریہ ،کلکتہ، مغربی بنگال اُردو اکاڈمی ، 1982ء ، ص 53
== روحِ غزل ،پروفیسر مظفر حنفی ،الہ آباد، انجمن روحِ ادب 1993ء ، ص 134
== فکر و فن کے محرکات ، پروفیسر اظہر قادری ، شفیق احمد شفیق ،مرتب ،کراچی، حلقۂ آہنگِ نو 2001ء ، ص 104
== اشاریہ "معارف" اعظم گڑھ ،محمد سہیل شفیق، مرتبہ ،کراچی، قرطاس 2006ء ، ص 636
== وفیات ناموران پاکستان ، ڈاکٹر محمد منیر احمد سلیچ ،لاہور، اُردو سائنس بورڈ 2006ء ، ص 915

رسائل
== ہفت روزہ "ہماری زبان" دہلی شمارہ یکم مئی 1939ء ، ص 1
== ماہنامہ "ساقی" کراچی شمارہ اگست 1956ء ، ص 41

کِتابیات (وحشت شناسی)
== حیاتِ وحشت ، ڈاکٹر وفا راشدی ،کراچی، مکتبہ اشاعت اُردو ملیر
== مضامینِ وحشت ، عنوان چشتی ،مظفر نگر، رنگ محل پبلشرز 1983ء


  • نقوش و آثار (1957ء)شاعری

  • ترانۂ وحشت (1953ء) شاعری

  • دیوان وحشت (1910ء)شاعری

    تبصرے:- " سب کا سب پڑھا اور خُوب لطف اُٹھایا- ماشاءاللہ طبعیت نہایت تیز ہے- اور فی زمامہ بہت کم لوگ ایسا کہہ سکتے ہیں- آپ کی مضمون آفرینی اور ترکیبوں کی چستی خاص طور پر قابل ِ داد ہیں- فارسی کلام بھی آپ کی طباعی کا ایک عمدہ نمونہ ہے- شعر کا بڑا خاصہ یہ ہے کہ ایک مستقل اثر پڑھنے والے کے دل پر چھوڑ جائے اور یہ بات آپ کے کلام میں بدرجۂ اتم موجود ہے" ...علامہ اقبال بحوالہ اوراق ِ گم گشتہ از رحیم بخش شاہین ناشر: اسلامک پبلی کیشنز. لاہور 1976ء صفحہ 140-141


Keyboard