Loading...
لاگ ان

جس دیوانے نے جس عہد میں بھی حق کا اظہار کیا ہے

فارغ بخاری


جس دیوانے نے جس عہد میں بھی حق کا اظہار کیا ہے
باطل کی اندھی طاقت نے اس کو وقف دار کیا ہے

اے مجھ پر انساں کی محبت کا الزام لگانے والو
اِس محبُوب گنہ سے آخر میں نے کب انکار کیا ہے

دیکھ فقیہہ شہر مجھے مذہب سے کوئی بَیر نہیں ہے
سچ پوچھے تو تیری غلط تاویلوں نے بیزار کیا ہے

ایسے جانبدار خدا کی میرے دل میں کیا عظمت ہو
جس نے مجھے مجبور بنایا اور تجھے مختار کیا ہے

آج وہ گلشن میں سستا ہے آج وہ پُھولوں کو ڈستا ہے
جس نے اپنے خون سے اِس ویرانے کو گلزار کیا ہے

اے نمرود عصر ِ حاضر میں ایسا مجرم ہوں جس نے
اپنے جرم کا موت کے شعلوں کی زد میں اقرار کیا ہے


تبصرہ

No Comments Posted
Log in to post comments.
Keyboard