Loading...
لاگ ان

ترتیب ِ نَو سے بدلا نہ میخانے کا نظام

فارغ بخاری


ترتیب ِ نُو سے بدلا نہ میخانے کا نظام
جو پہلے تشنہ کام تھے اب بھی ہیں تشنہ کام

آئین گلستاں میں تغیرّ یہ کم ہے کیا
کانٹے بنے ہوئے ہیں گل و لالہ کے امام

آزاد زندگی کہاں اپنے نصیب میں
کل انکے تھے غلام تو آج آپ کے غلام

وہ بھی ہیں میری بادہ گساری پہ معترض
اِنسان کے لہو سے ہیں لبریز جن کے جام

ابتک وہی قفس ہے وہی ظلمتوں کا دَور
یہ صبح حریت ہے کہ محکومیتّت کی شام

ذہنوں کے انقلاب سے بنتی ہے زندگی
مردہ خیال و فکر کو دے زیست کا پیام

برسوں کے اضطراب سے جو لٹ چکی ہے اب
اے دست ِ مصلحت اِسی زنجیر کو نہ تھام

انسانیت کے نام پہ جو بھینٹ چڑھ گیا
فارغ ہزار بار ہو اِس روح پر سلام


تبصرہ

No Comments Posted
Log in to post comments.
Keyboard